ابنا: بابل صوبے میں پارلیمنٹ کی سیکورٹی کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ عراقی فوج کے سخوئی جنگی طیاروں نے حلہ میں دہشت گرد تنظیم کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا جس میں 24 دہشت گرد مارے گئے۔ عراق کی فوج نے اسی طرح صلاح الدین صوبے میں قبائل کی مدد سے دسیوں دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور مسلسل پیشقدمی جاری ہے۔
اس درمیان عراقی فوج کے ترجمان قاسم عطا نے بتایا ہے کہ جلد ہی موصل میں دہشت گردوں سے جنگ کے لئے عوامی مقابلہ شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس بات کی ٹھوس معلومات ہے کہ موصل کے زیادہ تر قبیلے داعش سے مقابلے کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں اور یہ بات صرف موصل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ صلاح الدین صوبے میں بھی انتفاضہ یا عوامی مزاحمت شروع ہو جائے گی۔
انہوں نے اسی طرح بتایا کہ فوجیوں اور رضاکاروں نے بیجی رفائنري کی طرف بڑھنے والے دہشت گردوں پر حملہ کیا جس میں کم سے کم 14 شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئی۔
در ایں اثنا مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے منگل کو عراقی وزیر اعظم نوری مالكي سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک عراق کی حمایت کرتا ہے اور مقررہ وقت میں حکومت تشکیل کا خواہش مند ہے۔
عراقی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بات چیت میں مالكي نے دہشت گردی سے جدوجہد کے سلسلے میں عراق کی حمایت کرنے پر مصر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عراقی فوج، دہشت گردوں کے قبضے والے علاقوں میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
.......
/169